قسمت آزمائی
معنی
١ - کامیابی کے امکان یا بھروسے پر کوئی قدم اٹھانے کا عمل، نصیبے کی آزمائش۔ "یہ فہرست واپس آگئی تو میں نے پھر قسمت آزمائی شروع کی۔" ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ١٥ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ اسم 'قسمت' کےساتھ فارسی مصدر 'آزمودن' سے مشتق صیغہ امر 'آزما' کے ساتھ 'ئی' بطور لاحقہ کیفیت ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٧٩٦ء میں "دیوان محب (ولی اللہ)" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کامیابی کے امکان یا بھروسے پر کوئی قدم اٹھانے کا عمل، نصیبے کی آزمائش۔ "یہ فہرست واپس آگئی تو میں نے پھر قسمت آزمائی شروع کی۔" ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ١٥ )